حمل کی دوسری سہ ماہی، جو کہ 13ویں ہفتے سے شروع ہو کر 26ویں ہفتے تک جاری رہتی ہے، اکثر "ہنیمون پیریڈ" کہلاتی ہے۔ اس مرحلے میں صبح کی متلی (Morning Sickness) کم ہو جاتی ہے اور توانائی میں اضافہ محسوس ہوتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہی وہ وقت ہے جب بچے کے اہم اعضاء تیزی سے پروان چڑھ رہے ہوتے ہیں؟
ہفتہ وار تبدیلیوں کا تفصیلی جائزہ
اس سہ ماہی میں آپ کا بچہ ایک لیموں کے سائز سے بڑھ کر ایک بڑی گوبھی کے سائز تک پہنچ جاتا ہے:
- ہفتہ 13-16: بچے کے گردے کام کرنا شروع کر دیتے ہیں اور وہ ایمنیوٹک فلوئڈ میں سانس لینے کی مشق کرتا ہے۔ اس مرحلے پر بچے کے جنسی اعضاء بھی واضح ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
- ہفتہ 17-20: بچہ آوازیں سننا شروع کر دیتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب آپ کو پہلی بار بچے کی ہلکی حرکت (Quickening) محسوس ہو سکتی ہے۔
- ہفتہ 21-26: بچے کے پھیپھڑے اور دماغ تیزی سے بنتے ہیں اور اس کی جلد پر "ورنکس" (Vernix) نامی حفاظتی تہہ بننے لگتی ہے جو اسے پانی میں رہنے کے باوجود محفوظ رکھتی ہے۔
غذائیت کی سائنس: کیا کھانا ضروری ہے؟
صرف پیٹ بھرنا کافی نہیں، بلکہ ایسی غذا کا انتخاب ضروری ہے جو بچے کی ذہنی اور جسمانی نشوونما میں براہ راست مدد کرے۔
1. اومیگا 3 فیٹی ایسڈز: یہ مچھلی، اخروٹ اور السی کے بیجوں میں پایا جاتا ہے، جو بچے کی آنکھوں اور دماغ کی تشکیل کے لیے لازمی ہے۔
2. آئرن کی اہمیت: اس مرحلے میں آپ کے جسم میں خون کی مقدار 50٪ تک بڑھ جاتی ہے، اس لیے پالک، سرخ گوشت اور دالوں کا استعمال بڑھا دیں تاکہ خون کی کمی (Anemia) نہ ہو۔
3. وٹامن ڈی اور کیلشیم: بچے کی ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے دودھ، دہی، پنیر اور انڈوں کا استعمال یقینی بنائیں۔
میڈیکل ٹیسٹ اور انومالی اسکین
طبی پالیسیوں کے مطابق، ہم ہمیشہ پیشہ ورانہ مشورے پر زور دیتے ہیں۔ اس مرحلے کے اہم ٹیسٹ درج ذیل ہیں:
- انومالی اسکین: یہ 18 سے 22 ہفتوں کے درمیان کیا جاتا ہے۔ اس میں بچے کے دل، دماغ، ریڑھ کی ہڈی اور دیگر اعضاء کا تفصیلی معائنہ کیا جاتا ہے۔
- گلوکوز ٹیسٹ: 24 سے 28 ہفتوں کے درمیان شوگر (Gestational Diabetes) کی جانچ کی جاتی ہے۔
- بلڈ پریشر کی نگرانی: پری لیمپسیا (Preeclampsia) سے بچنے کے لیے ہر معائنے پر بی پی چیک کروانا ضروری ہے۔
عام غلط فہمیاں (Myths) بمقابلہ حقیقت
غلط فہمی: حاملہ خاتون کو "دو لوگوں کے لیے" کھانا چاہیے۔
حقیقت: آپ کو صرف اضافی 300 سے 350 کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔ حد سے زیادہ کھانا شوگر کا سبب بن سکتا ہے۔
غلط فہمی: ورزش بچے کے لیے خطرناک ہے۔
حقیقت: ہلکی ورزش جیسے چہل قدمی نارمل ڈلیوری کے امکانات کو بڑھاتی ہے اور کمر درد میں کمی لاتی ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ)
سوال 1: دوسری سہ ماہی میں الٹراساؤنڈ کیوں ضروری ہے؟
جواب: 18 سے 22 ہفتوں کے درمیان انومالی اسکین کیا جاتا ہے تاکہ بچے کی جسمانی ساخت اور اعضاء کی صحت کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔
سوال 2: کیا اس مرحلے میں سفر کرنا محفوظ ہے؟
جواب: عام طور پر دوسری سہ ماہی سفر کے لیے بہترین وقت ہے، لیکن طویل سفر سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا اور ہر گھنٹے بعد چہل قدمی کرنا ضروری ہے۔
سوال 3: بچے کی حرکت کب محسوس ہوتی ہے؟
جواب: پہلی بار ماں بننے والی خواتین کو عام طور پر 20 ویں ہفتے کے قریب بچے کی پہلی حرکت محسوس ہوتی ہے۔
خبردار! ان علامات کو نظر انداز نہ کریں
- ہاتھوں یا چہرے پر اچانک شدید سوجن۔
- وجائنا سے پانی یا خون کا اخراج۔
- بچے کی حرکت میں اچانک غیر معمولی کمی۔
- شدید خارش، خاص طور پر ہاتھوں اور پاؤں کے تلووں پر۔
📍 فیملی کیئر کلینک 388 جے بی، جھنگ روڈ، ٹوبہ ٹیک سنگھ
